NIOS اردو (206) پبلک امتحان - درسی رہنمائی:
سبق "ماس میڈیا کی اہمیت" ماڈیول-4 (عملی نثری اصناف) کا ایک بنیادی، وزنی اور سائنسی بصیرت پر مبنی سبق ہے۔ تحریری امتحان میں ماس میڈیا کے لغوی و اصطلاحی معنی، ترسیل کے تین بنیادی اجزاء (مرسل، پیغام، مرسل الیہ)، پرنٹ میڈیا کی تاریخ (چین تا یورپ)، متحرک اور بولتی فلموں کا کیمرہ (24 فریم فی سیکنڈ)، ہندوستان میں ریڈیو کی تاریخ (1927ء تا آل انڈیا ریڈیو 1936ء)، اور ٹیلی ویژن کے ارتقا (1959ء دہلی تا 15 اگست 1982ء رنگین و قومی نشریات) پر مبنی معروضی، مختصر اور تفصیلی سوالات لازماً پوچھے جاتے ہیں۔ ذیل میں سبق کو پانچ مربوط اور مفصل حصوں میں تشکیل دیا گیا ہے۔
ماس میڈیا کا مفہوم، ترسیل کے تین اساسی عناصر اور تاریخی پس منظر
1. اصطلاحی و درسی تعریف (Concept Definition):
ماس میڈیا (Mass Media) کی لغوی ساخت: درسی کتاب صفحہ 156 کے مطابق، ماس میڈیا دو الفاظ "ماس" (Mass) اور "میڈیا" (Media) سے مل کر بنا ہے۔ "ماس" کے معنی ہیں عوام، بہت سے لوگ یا مجمع؛ جبکہ "میڈیا" ذرائع کو کہتے ہیں جن کے توسط سے عوام سے رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔
جامع درسی تعریف: "ماس میڈیا اس ذریعہ کو کہتے ہیں جس سے ایک ہی وقت میں لگاتار بہت سے لوگوں تک اپنی بات، خیالات، پیغامات، احساسات، جذبات یا معلومات بھیجی جاتی ہیں"۔
2. مفصل فکری و سائنسی وضاحت (Detailed Explanation):
ماس میڈیا کی اصل روح کمیونی کیشن (Communication / ترسیل) ہے۔ کوئی بات جو کہی جائے، وہ دوسروں کی سمجھ میں بھی آنی چاہیے۔ ترسیل کا مقصد محض پیغام کو بھیج دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مخاطب تک صحیح سلامت پہنچنا، موصول ہونا اور اس کا باقاعدہ فہم حاصل ہونا لازمی ہے۔ اگر پیغام پہنچ نہ سکے یا سمجھ میں نہ آئے تو ترسیل کا عمل ادھورا اور بیکار رہتا ہے۔
اس لیے درسی کتاب کے مطابق ترسیل کے تین بنیادی اجزاء (Constituent Elements) ہوتے ہیں:
ان تینوں عناصر کو ایک لڑی میں پرونا ہی میڈیا یعنی کمیونی کیشن کہلاتا ہے۔ اس طرح ترسیل ایک مشترکہ عمل (Mutual Process) ہے، جو اپنے مکمل معنوں میں دراصل "متاثر کرنے اور متاثر ہونے کا عمل" ہے۔ ترسیل لفظ، تصویر اور ادائیگی (Action / اشارے) تینوں کے ذریعے واقع ہوتی ہے۔
تاریخی ارتقا: بڑے پیمانے پر عوام سے رابطہ کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ تاریخ کے ہر دور میں اس کی ضرورت رہی ہے۔ فرق صرف شکلوں اور ذرائع کا ہے:
- قدیم زمانہ: شاہی اعلانات اور فرامین عوام تک پہنچانے کے لیے ڈھول بجانے (دھنڈورا پیٹنے) اور منادی کرانے کا طریقہ رائج تھا۔
- ترقی یافتہ جدید دور: سائنس کی انقلابی ترقی نے تار، ٹیلی فون، ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ پریس اور انٹرنیٹ کے ذریعے سیکنڈوں میں کروڑوں عوام تک رسائی ممکن بنا دی ہے۔
3. درسی متن سے عملی تمثیلیں (Textual Examples of Communication):
4. عملی زندگی میں اطلاق (Real-world Application):
عملی زندگی میں چاہے سرکاری وبائی الرٹ جاری کرنا ہو، قدرتی آفات (سیلاب/زلزلے) سے خبردار کرنا ہو، یا الیکشن کے نتائج نشر کرنے ہوں—ماس میڈیا ترسیل کے اس سہ رخی فارمولے (مرسل، پیغام، مرسل الیہ) کے ذریعے ہی سماج کے تانے بانے کو مستحکم رکھتا ہے۔
ماس میڈیا کی اقسام: پرنٹ میڈیا کی تاریخ، اسٹیج اور "عالمی گاؤں" کا تصور
1. اقسام کی درجہ بندی (Classification of Mass Media):
درسی کتاب صفحہ 158 کے مطابق ماس میڈیا کی تین اہم اور مروجہ صورتیں ہیں:
1. پرنٹ میڈیا (اشاعتی ذرائع) | 2. روایتی اسٹیج و منچ | 3. الیکٹرانک میڈیا (برقی ذرائع)
2. مفصل تاریخی و تکنیکی تشریح (Detailed Explanation):
1. پرنٹ میڈیا (Print Media):
پرنٹ میڈیا میں اخبارات، کتابیں، رسالے، پوسٹرز، ہورڈنگس (قدِ آدم اشتہار) اور پمفلٹس شامل ہیں۔
- چین میں آغاز: کاغذ کی ایجاد کے ساتھ چھپائی (Printing) کی شروعات گیارہویں صدی میں چین میں ہوئی۔
- یورپ میں منتقلی: دستی پریس (Manual Press) کے ذریعے ٹائپ کیے جانے کی تکنیک پندرھویں صدی میں یورپ پہنچی، جس سے عوامی ترسیل کا جدید دور شروع ہوا۔
- ابتدائی حدود: شروع میں پرنٹ میڈیا صرف ایک مخصوص اور خاص طبقے تک محدود تھا کیونکہ اس زمانے میں خواندگی (پڑھنے لکھنے کی شرح) بہت کم تھی اور پریس کی چھاپنے کی صلاحیتیں بھی محدود تھیں۔
- بیسویں تا اکیسویں صدی کا انقلاب: بیسویں صدی میں آفسیٹ طباعت (Offset Printing) کی تکنیک نے طباعت کی دنیا بدل دی، اور اکیسویں صدی میں کمپیوٹرائزڈ ڈیسک ٹاپ پبلشنگ نے اسے تیز ترین بنا دیا۔ خواندگی کی شرح بڑھنے سے اخبارات ماس میڈیا کا سب سے اہم ستون بن گئے۔
2. اسٹیج یا منچ (Traditional Stage & Theatre):
فلم اور ٹی وی کی ایجاد سے پہلے ایک طویل عرصے تک اسٹیج یا منچ ماس میڈیا کا سب سے مقبول، موثر اور عوامی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اجزاء: اسٹیج ڈرامے، سوانگ، اوپیرا، لوک رقص، مشاعرے، کوی سمیلن اور عوامی جلسے—یہ تمام سرگرمیاں رو در رو (Face-to-Face) بیٹھ کر عوام کے شعور کو بیدار اور متاثر کرتی رہی ہیں اور آج بھی کسی نہ کسی حد تک قائم ہیں۔
3. الیکٹرانک میڈیا اور "عالمی گاؤں" (Global Village):
فلم، ٹی وی، ریڈیو، ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ای میل ماس میڈیا کے جدید ترین برقی ذرائع ہیں۔ سائنسی ترقی اور مواصلاتی ایجادات نے وقت اور فاصلے کو سمیٹ کر پوری دنیا کو ایک "عالمی گاؤں" (Global Village) اور ساری انسانی آبادی کو ایک کنبے اور خاندان میں تبدیل کر دیا ہے۔ جہاں ہزارہا میل کا فاصلہ لمحوں میں طے ہو جاتا ہے اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں پیش آنے والے واقعے کی دھمک فوراً پوری دنیا میں سنی جا سکتی ہے۔
3. درسی متن سے اہم تاریخی تواریخ:
4. عملی زندگی میں اطلاق (Real-world Application):
آج اگر دنیا کے کسی دوسرے براعظم میں زلزلہ آئے یا کوئی سائنسی دریافت ہو، تو انٹرنیٹ اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے منٹوں میں ہم تک خبر پہنچ جاتی ہے۔ گلوبل ولیج کا یہ تصور انسانوں کے درمیان تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی قربت کی بنیاد ہے۔
فلم کی ایجاد و ارتقا: خاموش فلموں سے 24 فریم فی سیکنڈ کیمرے اور بولتی فلموں تک
1. صنفِ فلم کی تعریف و اثر پذیری (Concept of Cinema):
فلم ماس میڈیا کا وہ طاقتور بصری و سماعی ذریعہ ہے جس کی ایجاد نے مقبولیت کے اعتبار سے روایتی اسٹیج کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اسٹیج کے محدود دائرے کے مقابلے میں فلم متحرک مناظر، زوم اور حقیقت پسندی کے باعث عوامی ذہنوں پر کہیں زیادہ گہرا اور دیرپا اثر ڈالتی ہے۔
2. فلم سازی کی سائنسی تاریخ و تکنیک (Detailed Technical Breakdown):
درسی کتاب صفحہ 159 اور 160 کے مطابق فلم سازی کا ارتقا درج ذیل مراحل سے گزرا:
- فوٹوگرافی تا متحرک تصویر: 1850ء کے قریب فوٹوگرافی ایجاد ہوئی۔ اس کے بعد 1890ء کے قریب متحرک فوٹوگرافی (Motion Picture) کا طریقہ رائج ہوا، جس کے ذریعے جاندار اشیاء کو متحرک مگر خاموش فلموں کی شکل میں پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
- کیمرے کے اولین موجدین: فرانس کے لومیئر خاندان (Lumiere Family)، انگلستان کے بی ڈبلیو پال (R.W. Paul)، اور امریکہ کے تھامس اے ایڈیسن (Thomas A. Edison) کے عملے نے ایک ایسا مووی کیمرہ تیار کر لیا جو فی سیکنڈ کی رفتار سے ایک پورے سلسلے کی عکس بندی (فلم سازی) کر سکتا تھا۔
- ساؤنڈ ٹریک کا انقلاب: خاموش فلموں سے بولتی فلموں (Talkies) تک کا سفر ساؤنڈ ٹریک (Sound Track) کی بدولت طے ہوا۔ مائیکروفون اور ساؤنڈ فلم ریکارڈر کی مدد سے آواز کو ایکشن کے ساتھ ساتھ یا الگ سے ریکارڈ کر کے بعد میں ڈب (Dub) کر لیا جاتا ہے۔
- بولتی فلموں کے کیمرے کی سائنسی ساخت: بولتی فلموں کا کیمرہ ایک انتہائی پیچیدہ، حساس اور نازک آلہ ہے۔ "یہ ایک سیکنڈ میں ٹھیک 24 فریم (24 frames per second) ریکارڈ کرتا ہے"۔ یہ ساکت چیزوں کی فلم بندی بھی کر سکتا ہے اور متحرک چیزوں کے ساتھ ساتھ حرکت بھی کر سکتا ہے۔ یہ زاویے بدل کر نیچے سے اوپر، اوپر سے نیچے اور دائیں بائیں کے مناظر دکھا سکتا ہے۔ انسانی آنکھ کی طرح دیکھنے کے باوجود اس کی پہنچ آنکھ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔
3. درسی متن سے کلیدی حقائق (Key Film Facts):
4. عملی زندگی میں اطلاق (Real-world Application):
24 فریم فی سیکنڈ کا یہی اصول آج بھی دنیا کی ہر جدید ڈیجیٹل سنیماٹوگرافی اور ویڈیو اسٹریمنگ کا بنیادی معیار ہے۔ فلم کے ذریعے تاریخی واقعات کی دستاویز کاری اور سماجی برائیوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاتی ہے۔
ریڈیو نشریات: برقی لہروں کا سفر، ہندوستان میں آغاز اور آل انڈیا ریڈیو کی تاریخ
1. صوتی میڈیا کی تعریف (Definition of Radio Broadcasting):
ریڈیو ماس میڈیا کا ایسا صوتی (Audio) ذریعہ ہے جو دریا، پہاڑ، صحرا اور سمندر کی جغرافیائی بندشوں کو عبور کرتے ہوئے برقی مقناطیسی لہروں (Radio Waves) کے سہارے سیکنڈوں میں پوری دنیا کا سفر طے کر لیتا ہے۔
2. ہندوستان میں ریڈیو کا تاریخی ارتقا (Historical Timeline in India):
درسی کتاب صفحہ 160 کے مطابق ہندوستان میں ریڈیو کی تاریخ انتہائی منظم اور تدریجی ہے:
دور دراز علاقوں میں ریڈیو کی غیر معمولی اہمیت: درسی کتاب کے مطابق ٹی وی اور اخبار کے مقابلے میں ریڈیو آج بھی پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے لیے سب سے زیادہ اہم اور موثر ترین ذریعہ ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
- بجلی کی قید نہیں: جہاں دور دراز دیہات اور پہاڑوں میں بجلی دستیاب نہیں، وہاں بھی ریڈیو خشک بیٹری (سیل) سے آسانی سے چلایا جا سکتا ہے۔
- ناخواندہ عوام کے لیے مفید: اخبار پڑھنے کے لیے خواندگی ضروری ہے، جبکہ ریڈیو سن کر ان پڑھ کسان اور مزدور بھی زراعت، موسم اور ملکی خبروں سے واقف ہو سکتے ہیں۔
- نقل و حمل میں آسانی: ٹرانزسٹر ریڈیو کو کہیں بھی جیب یا ہاتھ میں اٹھا کر کام کے دوران سنا جا سکتا ہے۔
3. درسی متن سے اہم سال اور تواریخ:
4. عملی زندگی میں اطلاق (Real-world Application):
طوفان، سونامی اور ہنگامی حالات میں جب بجلی کے کھمبے گر جاتے ہیں اور موبائل ٹاور بند ہو جاتے ہیں، اس وقت ریڈیو کی بلٹن ہی عوام اور ماہی گیروں کی زندگی بچانے کا واحد فعال ذریعہ بنتی ہے۔
ٹیلی ویژن کا انقلاب: 15 ستمبر 1959ء دہلی تا 15 اگست 1982ء رنگین و قومی نشریات
1. صوتی و بصری ابلاغ کی تعریف (Definition of Television):
ٹیلی ویژن موجودہ دور کا محبوب ترین، ہمہ گیر اور ناگزیر ترین ذریعہ ہے۔ یہ بیک وقت صوتی (سننے) اور بصری (دیکھنے) دونوں حواس کو متحرک کر کے ناظرین کو گھر بیٹھے براہِ راست واقعات کا عینی شاہد بنا دیتا ہے۔
2. ہندوستانی ٹیلی ویژن کے ارتقا کی تاریخی داستان (Chronological History):
درسی کتاب صفحہ 161 اور 162 کے مطابق ہندوستانی ٹی وی نے دہائیوں کے دوران انقلابی منازل طے کیں:
• انسیٹ (INSAT-1) کا معجزہ: دیسی سیٹلائٹ انسیٹ کے ذریعے پورے ملک کی نشریات کو ایک لڑی میں پرو دیا گیا اور "دہلی نیشنل پروگرام" کا آغاز ہوا۔
• رنگین نشریات (Color Transmission): اسی دن بلیک اینڈ وائٹ نشریات ختم کر کے باقاعدہ رنگین نشریات کا تاریخی آغاز ہوا۔
نوٹ برائے تفہیم: بڑے شہروں کے مراکز کو مائیکرو ویو لنک (Microwave Link) سے جوڑا گیا جو پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں کام کرتا تھا۔
3. درسی متن سے اہم امتحانی تواریخ:
4. عملی زندگی میں اطلاق (Real-world Application):
تعلیم اور علم کے فروغ میں سویم پربھا (Swayam Prabha) اور تعلیمی چینلز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کرکٹ ورلڈ کپ، چندریان مشن کی چاند پر لینڈنگ، یا یومِ جمہوریہ کی پریڈ کا لائیو ٹیلی کاسٹ پوری قوم کو بیک وقت ایک جذبے سے سرشار کر دیتا ہے۔
بصری خاکے اور تقابلی جداول (Visual Flowcharts & Comparative Tables)
امتحان کی فوری تیاری کے لیے ترسیل کے اجزاء، ماس میڈیا کی اقسام، اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ارتقائی مراحل کا تقابل۔
ماس میڈیا کی اقسام، اہم ذرائع اور تکنیکی امتیازات (Media Matrix)
| میڈیا کی قسم | شامل اہم ذرائع | تاریخی آغاز و موجدین | امتیازی خصوصیت و کردار |
|---|---|---|---|
| 1. پرنٹ میڈیا | اخبارات، کتابیں، رسالے، پوسٹرز، ہورڈنگس، پمفلٹس۔ | 11ویں صدی میں چین (کاغذ و چھپائی)، 15ویں صدی میں یورپ (دستی پریس)۔ | تحریری دستاویز، 20ویں صدی میں آفسیٹ اور اب کمپیوٹر سے لیس۔ |
| 2. اسٹیج / منچ | ڈرامے، سوانگ، اوپیرا، مشاعرے، کوی سمیلن، عوامی جلسے۔ | قدیم روایتی عوامی مواصلات کا سب سے پہلا زندہ مظاہرہ۔ | رو در رو رابطہ، فلم اور ٹی وی سے قبل عوام کا سب سے مقبول ذریعہ۔ |
| 3. فلم (Cinema) | خاموش و بولتی فلمیں، دستاویزی و فیچر فلمیں۔ | 1850 فوٹوگرافی، 1890 متحرک فلم (لومیئر، پال، ایڈیسن)۔ | کیمرہ 24 فریم فی سیکنڈ ریکارڈ کرتا ہے؛ ساؤنڈ ٹریک سے بولتی فلمیں۔ |
| 4. ریڈیو | میڈیم ویو، شارٹ ویو براڈکاسٹنگ، خبریں، مباحثے۔ | ہندوستان: جولائی 1927ء ممبئی، جون 1936ء آل انڈیا ریڈیو۔ | صوتی ذریعہ، بغیر بجلی بیٹری سے چلتا ہے، دور دراز کے لیے ناگزیر۔ |
| 5. ٹیلی ویژن | قومی پروگرام، علاقائی چینلز، سیٹلائٹ نشریات۔ | 15 ستمبر 1959ء دہلی (یونیسکو)، 1972 ممبئی، 15 اگست 1982 کلر۔ | صوتی و بصری اکائی، دنیا کو گلوبل ولیج بنانے والا محبوب ترین میڈیا۔ |
وضاحت: یہ جدول ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ ترسیل کے ذرائع نے کاغذ سے برقی لہروں اور سیٹلائٹ تک کا سفر طے کیا۔
ہندوستان میں ٹیلی ویژن کے ارتقا کی تاریخی ٹائم لائن (1959ء تا 1984ء)
وضاحت: یہ فلو چارٹ درسی کتاب کے صفحات 161 تا 162 پر درج ہندوستانی ٹیلی ویژن کے تمام تاریخی سنگِ میل کو ایک نظر میں یاد رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا موازنہ جاتی تجزئیہ (Radio vs Television Matrix)
| تقابلی پہلو | ریڈیو (Radio) | ٹیلی ویژن (Television) |
|---|---|---|
| نوعیتِ ابلاغ (Sensory Nature) | صرف صوتی (Audio / سمعی ذریعہ)؛ سامعین صرف سن سکتے ہیں۔ | صوتی و بصری (Audio-Visual / سمعی و بصری)؛ ناظرین سن بھی سکتے ہیں اور دیکھ بھی سکتے ہیں۔ |
| ہندوستان میں باقاعدہ آغاز | جولائی 1927ء (ممبئی اسٹیشن، 1.5 kW ٹرانسمیٹر)۔ | 15 ستمبر 1959ء (دہلی، یونیسکو کے تعاون سے)۔ |
| سرکاری ادارے کا تاریخی نام | جون 1936ء میں آل انڈیا ریڈیو (AIR) نام رکھا گیا۔ | دور درشن (Doordarshan)، 1982ء میں قومی و رنگین نشریات۔ |
| دور دراز علاقوں میں رسائی | بے مثال؛ جہاں بجلی نہیں وہاں بھی بیٹری سے چلتا ہے، کسانوں کے لیے سستا۔ | شہروں اور قصبات میں بے حد مقبول، دیہات میں سیٹلائٹ کے بعد پھیلا۔ |
| سماجی اثر پذیری | معلومات، خبریں اور زرعی رہنمائی بآسانی نقل و حرکت کے دوران مہیا کرتا ہے۔ | رہن سہن، ثقافت اور سوچ کو بدلنے والا سب سے دلکش اور محبوب ترین ذریعہ۔ |
وضاحت: یہ جدول واضح کرتا ہے کہ ریڈیو رسائی اور سادگی کے اعتبار سے منفرد ہے جبکہ ٹیلی ویژن اثر انگیزی اور جامعیت میں بے تاج بادشاہ ہے۔
امتحانی کامیابی کے 5 سنہری اصول (Golden Rules)
NIOS کے تحریری امتحان میں فل مارکس حاصل کرنے کے لیے سبق کے سب سے وزنی اور مستند نکات:
ماس میڈیا اور ترسیل کے تین بنیادی اجزاء کا فارمولا:
ماس میڈیا دو لفظوں کا مجموعہ ہے: ماس (عوام/مجمع) اور میڈیا (ذرائع)۔ ترسیل (Communication) کے تین ناگزیر اجزاء ہوتے ہیں: 1. بھیجنے والا (Sender / مرسل)، 2. پیغام (Message / بات یا خبر)، اور 3. وصول کرنے والا (Receiver / مرسل الیہ)۔ ترسیل کا عمل دراصل متاثر کرنے اور متاثر ہونے کا باہمی عمل ہے۔
پرنٹ میڈیا کی ایجاد اور "عالمی گاؤں" کی تعریف:
کاغذ کے ساتھ چھپائی کا آغاز 11ویں صدی میں چین میں ہوا اور دستی پریس 15ویں صدی میں یورپ پہنچا۔ بیسویں صدی میں آفسیٹ اور اکیسویں صدی میں کمپیوٹر نے اسے عروج پر پہنچایا۔ جدید الیکٹرانک میڈیا نے زمان و مکان کے فاصلے مٹا کر پوری دنیا کو ایک "عالمی گاؤں" (Global Village) میں تبدیل کر دیا ہے۔
فلم کا تکنیکی معیار: 24 فریم فی سیکنڈ اور ساؤنڈ ٹریک:
1850ء میں فوٹوگرافی اور 1890ء کے قریب متحرک فلم ایجاد ہوئی۔ لومیئر (فرانس)، پال (انگلستان) اور ایڈیسن (امریکہ) نے مووی کیمرہ بنایا۔ بولتی فلموں کا کیمرہ ایک سیکنڈ میں ٹھیک 24 فریم ریکارڈ کرتا ہے، جبکہ آواز کو مائیکروفون اور ریکارڈر کی مدد سے ساؤنڈ ٹریک پر ریکارڈ کر کے بعد میں ڈب کیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں ریڈیو کے قیام کی مستند تواریخ:
ہندوستان میں پہلا ریڈیو اسٹیشن جولائی 1927ء میں ممبئی میں ڈیڑھ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر سے شروع ہوا، اگست 1927ء میں کلکتہ اسٹیشن بنا۔ 1930ء میں حکومت نے انڈین اسٹیٹ براڈکاسٹنگ سروس بنائی اور جون 1936ء میں اس کا نام "آل انڈیا ریڈیو" (AIR) رکھا گیا۔ بغیر بجلی بیٹری سے چلنے کے سبب یہ دور دراز علاقوں میں آج بھی اہم ترین ہے۔
ہندوستانی ٹیلی ویژن کے سنہری امتحانی سنگِ میل:
15 ستمبر 1959ء: یونیسکو کی مدد سے دہلی میں آغاز۔ 1972ء: ممبئی میں پہلا پروفیشنل سینٹر (مغربی جرمنی کا ساز و سامان) اور پونے میں پہلا ریلے سینٹر۔ 15 اگست 1982ء: انسیٹ (INSAT) کے ذریعے قومی پروگرام اور رنگین نشریات کا آغاز۔ اور نومبر 1982ء: نویں ایشین گیمز کا تاریخی لائیو ٹیلی کاسٹ۔
سبق نمبر 30: درسی معروضی سوالات (10 MCQs)
ہر درست جواب پر 1 نمبر۔ درسی پی ڈی ایف متن اور مشقوں سے منتخب مستند سوالات۔
ماس میڈیا کی کلیدی اصطلاحات و تواریخ (3D Flashcards)
کارڈ پر کلک کر کے اسے پلٹیں (Flip) اور فوری دہرائی کریں۔
ماس میڈیا کی درسی تعریف
وہ ذریعہ جس سے ایک ہی وقت میں لگاتار بہت سے لوگوں تک اپنی بات، خیالات، پیغامات، جذبات یا معلومات بھیجی جاتی ہیں۔